Surah Yūsuf

Irfan Ul Quran

Read Surah Yusuf with English & Urdu translation or listen to audio with Urdu translation. It is the 12nd Surah in the Quran with 111 verses. You can read full Surah Yusuf with English & Urdu Translation online. The surah's position in the Quran in Juz 12 - 13 and it is called Makki Surah.

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے
In the Name of Allah, the Most Compassionate, the Ever-Merciful

24. (یوسف علیہ السلام نے انکار کر دیا) اور بیشک اس (زلیخا) نے (تو) ان کا ارادہ کر (ہی) لیا تھا، (شاید) وہ بھی اس کا قصد کر لیتے اگر انہوں نے اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھا ہوتا۔٭ اس طرح (اس لئے کیا گیا) کہ ہم ان سے تکلیف اور بے حیائی (دونوں) کو دور رکھیں، بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے (برگزیدہ) بندوں میں سے تھےo

٭ (یا انہوں نے بھی اس کو طاقت سے دور کرنے کا قصد کر لیا تھا۔ اگر وہ اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھ لیتے تو اپنے دفاع میں سختی کر گزرتے اور ممکن ہے اس دوران ان کا قمیض آگے سے پھٹ جاتا جو بعد ازاں ان کے خلاف شہادت اور وجہ تکلیف بنتا، سو اﷲ کی نشانی نے انہیں سختی کرنے سے روک دیا۔)

24. (Yusuf [Joseph] refused) but she (Zulaykha) had definitely made up her mind for him. And he too (might) have resolved had he not seen the clear sign of his Lord.* It was (made to happen) like that (in order that) We might keep both affliction and indecency away from him. Assuredly, he was of Our chosen (exalted) servants.

* Or he could have made up his mind to repel her by force. Had he not seen the manifest sign of his Lord, he would have used force in his defence, and it was likely that his shirt would have been torn from the front in the struggle, later causing him trouble by serving as evidence against him. So Allah’s sign stopped him from using force.

(Yūsuf, 12 : 24)

31. پس جب اس (زلیخا) نے ان کی مکارانہ باتیں سنیں (تو) انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے مجلس آراستہ کی (پھر ان کے سامنے پھل رکھ دیئے) اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دے دی اور (یوسف علیہ السلام سے) درخواست کی کہ ذرا ان کے سامنے سے (ہوکر) نکل جاؤ (تاکہ انہیں بھی میری کیفیت کا سبب معلوم ہو جائے)، سو جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام کے حسنِ زیبا) کو دیکھا تو اس (کے جلوۂ جمال) کی بڑائی کرنے لگیں اور وہ (مدہوشی کے عالم میں پھل کاٹنے کے بجائے) اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور (دیکھ لینے کے بعد بے ساختہ) بول اٹھیں: اللہ کی پناہ! یہ تو بشر نہیں ہے، یہ تو بس کوئی برگزیدہ فرشتہ (یعنی عالمِ بالا سے اترا ہوا نور کا پیکر) ہےo

31. So when she (Zulaykha) heard their deceitful talk, she sent for them and arranged a meeting for them. (She placed fruit before them) and gave each one of them a knife and requested (Yusuf): ‘Walk out before them (so that they may realize the cause of my state of mind).’ So, when they glanced at Yusuf (Joseph and) saw (his dazzling beauty), they began to exalt (the charm of his ecstatic beauty) and (in a dazed state) cut their hands (instead of the fruits served to them). And (having seen him) they exclaimed (spontaneously): ‘God save us! This is not a human being; he must be some exalted angel (i.e., an embodiment of light descending from the transcendent realm of divinity)!’

(Yūsuf, 12 : 31)

100. اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اوپر تخت پر بٹھا لیا اور وہ (سب) یوسف (علیہ السلام) کے لئے سجدہ میں گر پڑے، اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اے ابا جان! یہ میرے (اس) خواب کی تعبیر ہے جو (بہت) پہلے آیا تھا (اکثر مفسرین کے نزدیک اسے چالیس سال کا عرصہ گزر گیا تھا) اور بیشک میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا ہے، اور بیشک اس نے مجھ پر (بڑا) احسان فرمایا جب مجھے جیل سے نکالا اور آپ سب کو صحرا سے (یہاں) لے آیا اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد پیدا کر دیا تھا، اور بیشک میرا رب جس چیز کو چاہے (اپنی) تدبیر سے آسان فرما دے، بیشک وہی خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

100. And he seated his parents on the throne and they (all) fell down prostrate before Yusuf (Joseph) and Yusuf (Joseph) said: ‘O father, this is the interpretation of (that) dream of mine which I had seen (long) before. (Most commentators state that it took forty years.) And my Lord has surely proved it true. And indeed He did me a (great) favour when He took me out of the prison and brought all of you (here) from the desert after Satan had stirred up discord between me and my brothers. The fact is that my Lord makes easy with (His) plan whatever He wills. Indeed, He alone is All-Knowing, Most Wise.

(Yūsuf, 12 : 100)