Surah an-Nisā’

Irfan Ul Quran

Read Surah an-Nisa with English & Urdu translation or listen to audio with Urdu translation. It is the 4th Surah in the Quran with 176 verses. You can read full Surah Nisa with English & Urdu Translation online. The surah's position in the Quran in Juz 4 - 5 - 6 and it is called Madani Surah.

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے
In the Name of Allah, the Most Compassionate, the Ever-Merciful

6. اور یتیموں کی (تربیتہً) جانچ اور آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں ہوشیاری (اور حُسنِ تدبیر) دیکھ لو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو، اور ان کے مال فضول خرچی اور جلد بازی میں (اس اندیشے سے) نہ کھا ڈالو کہ وہ بڑے ہو (کر واپس لے) جائیں گے، اور جو کوئی خوشحال ہو وہ (مالِ یتیم سے) بالکل بچا رہے اور جو (خود) نادار ہو اسے (صرف) مناسب حد تک کھانا چاہئے، اور جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو، اور حساب لینے والا اللہ ہی کافی ہےo

6. And evaluate and test the orphans (for the sake of their training) till they attain to (the age of) marriage. Then if you discern in them ingenuity (and the knack of planning), hand over their assets to them. And devour not their wealth spending it wastefully and in haste (fearing that after) they grow mature (they will take it back). The one who is affluent must absolutely abstain (from the orphan’s property), but he who is indigent (himself) should consume but a fair portion of it (only). And when you return to them their assets, take witnesses over them. And Sufficient is Allah at reckoning.

(an-Nisā’, 4 : 6)

11. اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے، اور مُورِث کے ماں باپ کے لئے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ (ملے گا) بشرطیکہ مُورِث کی کوئی اولاد ہو، پھر اگر اس میت (مُورِث) کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف اس کے ماں باپ ہوں تو اس کی ماں کے لئے تہائی ہے (اور باقی سب باپ کا حصہ ہے)، پھر اگر مُورِث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے (یہ تقسیم) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہو گی)، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ فائدہ پہنچانے میں ان میں سے کون تمہارے قریب تر ہے، یہ (تقسیم) اللہ کی طرف سے فریضہ (یعنی مقرر) ہے، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

11. Allah commands you concerning (the inheritance of) your children: The share of a son is equal to that of two daughters; then if there are only daughters (two or) more, they are entitled to two-thirds of the inheritance; if there is only one daughter, her share will be one half; the mother and the father of the deceased will get one-sixth of the inheritance each if the deceased leaves children behind; but in case the deceased has no children and the heirs are only his mother and his father, the mother’s share is one-third (and the rest is the father’s); then, if he has brothers and sisters, the mother will have a sixth portion. This distribution will be (executed) after (the fulfilment of) the will he may have made or after (the payment of) the debt. You know not which of them, whether your parents or your sons, are closer to you in bringing you benefit. This (distribution) is a duty assigned (i.e., fixed) by Allah. Surely, Allah is All-Knowing, Most Wise.

(an-Nisā’, 4 : 11)

12. اور تمہارے لئے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے نہ ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہو گی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے، اور اللہ خوب علم و حلم والا ہےo

12. And for you, the share in the property your wives leave is one half, provided they have no children. In case they have offspring, then there is one-fourth of inheritance for you, (that too) after (the fulfilment of) the will that may have been made or after the (payment of) debt. And the share of your wives in the assets you leave is one-fourth, provided you have no children. But if you have children, then their share in your inheritance is one-eighth, after (the fulfilment of) the will made pertaining to (the inheritance) or the payment of (your) debt. In the case of a man or a woman who leaves neither parents nor children, but who has a brother or a sister (on the mother’s side i.e., a uterine brother or a sister), there is a one-sixth share for each of the two. But if they are more than that, they all will be sharers in one-third. (This division shall also be accomplished) after the will which is made without any prejudice towards the heirs or after the (payment of) debt. This is a command from Allah, and Allah is All-Knowing, Most Forbearing.

(an-Nisā’, 4 : 12)

23. تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (سب) حرام کر دی گئی ہیں، اور (اسی طرح) تمہاری گود میں پرورش پانے والی وہ لڑکیاں جو تمہاری ان عورتوں (کے بطن) سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو (بھی حرام ہیں)، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں (بھی تم پر حرام ہیں) جو تمہاری پشت سے ہیں، اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہےo

23. Forbidden to you are your mothers and your daughters and your sisters and your father’s sisters and your mother’s sisters and your brother’s daughters and sister’s daughters and your mothers (who) have suckled you, your foster sisters and mothers of your wives. And (similarly) your stepdaughters brought up under your parentage born of your women with whom you have had marital relations (are also forbidden to you.) If you have not had martial relations, then there is no harm (in marrying their daughters). Also forbidden are the wives of your real sons who are of your loins, and having (in marriage) two sisters together, except what has passed in the days of ignorance. Allah indeed is Most Forgiving, Ever-Merciful.

(an-Nisā’, 4 : 23)

24. اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) سوائے ان کے جو (شرعی طریقے سے) تمہاری مِلک میں آجائیں، (ان اَحکامِ حرمت کو) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے، اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس (مال) کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا مقرر شدہ مَہر ادا کر دو، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مَہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ، بے شک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

24. And married women (are also forbidden to you) except whom your right hands possess. This is Allah’s ordinance for you. And all women besides those are lawful for you, so long as you seek them through (bridal gifts from) your wealth, taking (them) in modest wedlock, not in the licence of fornication. For the enjoyment, you have had from them (through marriage), give them their bridal gifts as an obligation. And there will be no sin upon you in what you may mutually agree upon even after the prior settlement (of bridal gifts). Indeed, Allah is All-Knowing, All-Wise.

(an-Nisā’, 4 : 24)

25. اور تم میں سے جو کوئی (اتنی) استطاعت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کرلے جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں ہیں، اور اللہ تمہارے ایمان (کی کیفیت) کو خوب جانتا ہے، تم (سب) ایک دوسرے ہی کی جنس سے ہو، پس ان (کنیزوں) سے ان کے مالکوں کی اجازت کے ساتھ نکاح کرو اور انہیں ان کے مَہر حسبِ دستور ادا کرو درآنحالیکہ وہ (عفت قائم رکھتے ہوئے) قیدِ نکاح میں آنے والی ہوں نہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ درپردہ آشنائی کرنے والی ہوں، پس جب وہ نکاح کے حصار میں آجائیں پھر اگر بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی آدھی سزا لازم ہے جو آزاد (کنواری) عورتوں کے لئے (مقرر) ہے، یہ اجازت اس شخص کے لئے ہے جسے تم میں سے گناہ (کے ارتکاب) کا اندیشہ ہو، اور اگر تم صبر کرو تو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہےo

25. And whoever of you cannot afford to marry free believing women may marry those believing slave girls who are in your possession (under Islamic law). And Allah knows best (the state of) your belief. You (all) are one from another. So, marry these (slave girls) with the permission of their masters, and pay them their dowers according to custom, provided they are wedlocked (being chaste), neither committing illegal sex, nor taking secret lovers. If they commit fornication after they have entered into wedlock, their punishment will be the half of that (appointed) for free (unmarried) women. This permission is for him amongst you who fears (indulging in) sin, and if you practise self-restraint, that is better for you. And Allah is Most Forgiving, Ever-Merciful.

(an-Nisā’, 4 : 25)

34. مرد عورتوں کے محافظ اور کفیل ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو تو اُنہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) اُنہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو اور (اگر پھر بھی اِصلاح پذیر نہ ہوں تو) اُن سے (تادیباً) عارضی طور پر الگ ہو جاؤ؛ پھر اگر وہ (رضائے الٰہی کے لیے) تمہارے ساتھ تعاون کرنے لگیں تو ان کے خلاف کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ بے شک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہےo

34. Men are the protectors and maintainers of women, because of the bounties Allah has given to some more than others, and because they spend out of their wealth (to support the women), so righteous women are sincere and pious, being guards in the absence (of their husbands) of what Allah has (enjoined to be) guarded. As for those (wives) you fear rebellious conduct on their part, (first) advise them, and (if ineffective) leave them alone in their beds, and (as a last resort) turn away from them, striking a temporary separation. Then if they cooperate with you, do not seek any course (of action) against them. Indeed, Allah is All-Exalted, All-Great.

(an-Nisā’, 4 : 34)

46. اور کچھ یہودی (تورات کے) کلمات کو اپنے (اصل) مقامات سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں: ہم نے سن لیا اور نہیں مانا، اور (یہ بھی کہتے ہیں:) سنیئے! (معاذ اللہ!) آپ سنوائے نہ جائیں، اور اپنی زبانیں مروڑ کر دین میں طعنہ زنی کرتے ہوئے”رَاعِنَا“ کہتے ہیں، اور اگر وہ لوگ (اس کی جگہ) یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور (حضور! ہماری گزارش) سنئے اور ہماری طرف نظرِ (کرم) فرمائیے تو یہ اُن کے لئے بہتر ہوتا اور (یہ قول بھی) درست اور مناسب ہوتا، لیکن اللہ نے ان کے کفر کے باعث ان پر لعنت کی سو تھوڑے لوگوں کے سوا وہ ایمان نہیں لاتےo

46. And some amongst the Jews pervert the words (of the Torah) from their (original) places and say: ‘We have heard but we disobey,’ and (also say): ‘Listen! (God forbid!) May you not be listened to,’ and twisting their tongues, scoffing at Din (Religion) they say: ‘Ra‘ina.’ And, (instead,) if they had said: ‘We have heard and obeyed,’ and ‘(Your Eminence! Please) give audience (to our request), and bless us with a (benevolent and kind) look,’ that would have been better for them, and (this utterance) would have been right and appropriate (too); but Allah has cursed them owing to their disbelief. So they do not believe except a few.

(an-Nisā’, 4 : 46)

77. کیا آپ نے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جنہیں (ابتداءً کچھ عرصہ کے لئے) یہ کہا گیا کہ اپنے ہاتھ (دفاعی جنگ سے بھی) روکے رکھو اور نماز قائم کئے رہواور زکوٰۃ دیتے رہو (تو وہ اس پر خوش تھے)، پھر جب ان پر جہاد (یعنی ظلم و تشدد اور جارحیت سے ٹکرانا) فرض کر دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ (مخالف) لوگوں سے (یوں) ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر۔ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر (اس قدر جلدی) جہاد کیوں فرض کر دیا؟ تو نے ہمیں مزید تھوڑی مدت تک مہلت کیوں نہ دی؟ آپ (انہیں) فرما دیجئے کہ دنیا کا مفاد بہت تھوڑا (یعنی معمولی شے) ہے، اور آخرت بہت اچھی (نعمت) ہے اس کے لئے جو پرہیزگار بن جائے، وہاں ایک دھاگے کے برابر بھی تمہاری حق تلفی نہیں کی جائے گیo

77. Have you not regarded those to whom it was said, ‘Restrain your hands (from warfare even in self-defence), and maintain the prayer and pay the Zakat (the mandatory charity)’? But when the fighting (in defence) was prescribed for them, a section of them started fearing (aggressive) people as they would fear Allah or were even more afraid. And they said, ‘Our Lord! Why have You enjoined fighting upon us? If only You had respited us for a little more time!’ Say (to them), ‘The enjoyment of this world is little, and the Hereafter is better for him who guards himself (against evil and mischief). You shall not be wronged equal to a single date-thread.’

(an-Nisā’, 4 : 77)

78. (اے موت کے ڈر سے جہاد سے گریز کرنے والو!) تم جہاں کہیں (بھی) ہوگے موت تمہیں (وہیں) آپکڑے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں (ہی) ہو، اور (ان کی ذہنیت یہ ہے کہ) اگر انہیں کوئی بھلائی (فائدہ) پہنچے توکہتے ہیں کہ یہ (تو) اللہ کی طرف سے ہے (اس میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت اور واسطے کا کوئی دخل نہیں)، اور اگر انہیں کوئی برائی (نقصان) پہنچے تو کہتے ہیں: (اے رسول!) یہ آپ کی طرف سے (یعنی آپ کی وجہ سے) ہے۔ آپ فرما دیں: (حقیقۃً) سب کچھ اللہ کی طرف سے (ہوتا) ہے۔ پس اس قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتےo

78. (O you who abstain from the armed struggle due to fear of death!) Death will overtake you wherever you may be, (even) if you are in unconquerable fortresses. And (their mentality is such that) if some good fortune (benefit) comes to them, they say: ‘It is from Allah (i.e., intermediation and benevolence of the Messenger has no role in it),’ and if some adversity befalls them, they say: ‘(O Messenger!) It is from you (i.e., because of you).’ Say: ‘(In fact,) all comes from Allah.’ So, what has gone wrong with these people that they do not feel inclined to understand anything?

(an-Nisā’, 4 : 78)

91. اب تم کچھ دوسرے لوگوں کو بھی پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ (منافقانہ طریقے سے ایمان ظاہر کرکے) تم سے (بھی) امن میں رہیں اور (پوشیدہ طریقے سے کفر کی موافقت کرکے) اپنی قوم سے (بھی) امن میں رہیں، (مگر ان کی حالت یہ ہے کہ) جب بھی (مسلمانوں کے خلاف) فتنہ انگیزی کی طرف پھیرے جاتے ہیں تو وہ اس میں (اوندھے) کود پڑتے ہیں، سو اگر یہ (لوگ) تم سے (لڑنے سے) کنارہ کش نہ ہوں اور (نہ ہی) تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں اور (نہ ہی) اپنے ہاتھ (فتنہ انگیزی سے) روکیں تو تم انہیں پکڑ (کر قید کر) لو اور انہیں قتل کر ڈالو جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ، اور یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے تمہیں کھلا اختیار دیا ہےo

91. Now you will find others desiring to be secure from you, and secure from their people, yet whenever they are returned to temptation (of killing you), they get thrown into it. So if they neither withdraw from you, nor offer you peace, nor restrain their hands (from fighting you), then seize them and kill them (to defend yourselves) wherever you confront them (during warfare). These are the (combatant) people against whom We have granted you a clear sanction (of defensive fighting).

(an-Nisā’, 4 : 91)

92. اور کسی مسلمان کے لئے (جائز) نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کر دے مگر غلطی سے، اور جس نے کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کر دیا تو (اس پر) ایک مسلمان غلام (یا باندی) کا آزاد کرنا اور خون بہا (کا ادا کرنا) جو مقتول کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے (لازم ہے) مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں، پھر اگر وہ (مقتول) تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مومن (بھی) ہو تو (صرف) ایک غلام (یا باندی) کا آزاد کرنا (ہی لازم) ہے، اور اگر وہ (مقتول) اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان (صلح کا) معاہدہ ہے تو خون بہا (بھی) جو اس کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان غلام (یا باندی) کا آزاد کرنا (بھی لازم) ہے۔ پھر جس شخص کو (غلام یا باندی) میسر نہ ہو تو (اس پر) پے در پے دو مہینے کے روزے (لازم) ہیں۔ اللہ کی طرف سے (یہ اس کی) توبہ ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

92. And it is not (lawful) for a Muslim to kill a Muslim but by mistake. And anyone who kills a Muslim unintentionally shall (be liable to) free a Muslim slave and (pay) blood money, to be (necessarily) handed over to the heirs of the person slain, unless they remit it. In case, he (the slain) comes from the people who are your enemies and is a believer (as well), then (only) freeing a (male or female) slave is prescribed. But if he (the slain) belongs to a people that between you and them there is a (peace) treaty, then blood compensation must be delivered to his family, and freeing a Muslim (male or female) slave is also mandatory. Then he who does not find (a slave) is (bound) to fast for two consecutive months. (This is his) repentance (prescribed) by Allah. And Allah is All-Knowing, Most Wise.

(an-Nisā’, 4 : 92)

94. اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) سفر پر نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور اس کو جو تمہیں سلام کرے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم (ایک مسلمان کو کافر کہہ کر مارنے کے بعد مالِ غنیمت کی صورت میں) دنیوی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو تو (یقین کرو) اللہ کے پاس بہت اَموالِ غنیمت ہیں۔ اس سے پیشتر تم (بھی) توایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (اور تم مسلمان ہوگئے) پس (دوسروں کے بارے میں بھی) تحقیق کر لیا کرو۔ بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہےo

94. O believers! When you set out (to fight) in the way of Allah, carry out a careful probe, and do not say to him who greets you (as a Muslim): ‘You are not a believer.’ You seek goods of the worldly life (in the shape of spoils of war, after killing a Muslim declaring him a disbeliever). So, (rest assured that) Allah has gains and booties in plenty. Before this you (too) were the same. Then Allah conferred on you His Favour (and you became Muslims). So investigate and confirm the truth (about others as well). Surely, Allah is Well Aware of what you do.

(an-Nisā’, 4 : 94)

95. مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو (جہاد سے جی چرا کر) بغیر کسی (عذر) تکلیف کے (گھروں میں) بیٹھ رہنے والے ہیں اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والے ہیں (یہ دونوں درجہ و ثواب میں) برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر مرتبہ میں فضیلت بخشی ہے اوراللہ نے سب (ایمان والوں) سے وعدہ (تو) بھلائی کا (ہی) فرمایا ہے، اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو (بہر طور) بیٹھ رہنے والوں پر زبردست اجر (و ثواب) کی فضیلت دی ہےo

95. Those of the Muslims who (shirking fight) stay back (home) without any stressful condition (i.e., excuse), and those who fight in the cause of Allah with their material as well as human resources cannot be equal (in their reward and rank). Allah has exalted in rank those who fight in the cause of Allah with their material as well as human resources above those who stay back withdrawn. Allah has (surely) promised good to all (the believers, yet) He has bestowed the merit of excellence with a mighty reward (and bounty) on those who strive hard over those who stay behind.

(an-Nisā’, 4 : 95)

102. اور (اے محبوب!) جب آپ ان (مجاہدوں) میں (تشریف فرما) ہوں تو ان کے لئے نماز (کی جماعت) قائم کریں پس ان میں سے ایک جماعت کو (پہلے) آپ کے ساتھ (اقتداءً) کھڑا ہونا چاہئے اور انہیں اپنے ہتھیار بھی لئے رہنا چاہئیں، پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو (ہٹ کر) تم لوگوں کے پیچھے ہو جائیں اور (اب) دوسری جماعت کو جنہوں نے (ابھی) نماز نہیں پڑھی آجانا چاہیے پھر وہ آپ کے ساتھ (مقتدی بن کر) نماز پڑھیں اور چاہئے کہ وہ (بھی بدستور) اپنے اسبابِ حفاظت اور اپنے ہتھیار لئے رہیں، کافر چاہتے ہیں کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو وہ تم پر دفعۃً حملہ کر دیں، اور تم پر کچھ مضائقہ نہیں کہ اگر تمہیں بارش کی وجہ سے کوئی تکلیف ہو یا بیمار ہو تو اپنے ہتھیار (اُتار کر) رکھ دو، اوراپنا سامانِ حفاظت لئے رہو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ذلّت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہےo

102. And, (O Beloved,) when you are (present) amongst these (soldiers), form up for them (congregational) Prayer. A squad of them, retaining their arms, should (first) stand by you (to follow you in Prayer); having performed their prostrations, they should (getting aside) take position in your rear. And (now) another squad who has not (yet) prayed should come up and pray with you (under your leadership); they should (also) hold on to their security measures and retain their weapons (persistently). The infidels want you to become neglectful of your weapons and other means of defence, and that they may launch a sudden attack against you. If you face a problem due to rain or illness, there is no harm if you (remove and) set your weapons aside, and hold fast to your means of security. Verily, Allah has prepared a humiliating torment for the disbelievers.

(an-Nisā’, 4 : 102)

127. اور (اے پیغمبر!) لوگ آپ سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور جو حکم تم کو (پہلے سے) کتابِ مجید میں سنایا جا رہا ہے (وہ بھی) ان یتیم عورتوں ہی کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ (حقوق) نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور چاہتے ہو کہ (ان کا مال قبضے میں لینے کی خاطر) ان کے ساتھ خود نکاح کر لو اور نیز بے بس بچوں کے بارے میں (بھی حکم) ہے کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر قائم رہا کرو، اور تم جو بھلائی بھی کروگے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہےo

127. And, (O Prophet,) people ask about your edict on matters concerning (orphan) women. Say: ‘Allah ordains you in their case, and the commandment (already) being communicated to you in the holy Book (also) pertains to those orphan women whom you deny (the rights) which have been prescribed for them. And (in order to take their assets into possession) you want to marry them. In addition to that, there is (also a decree) on affairs concerning helpless minor children, that stick to justice in matters of orphans. And whatever good you do, Allah is indeed Well Aware of that.

(an-Nisā’, 4 : 127)

135. اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے)، اور اگر تم (گواہی میں) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہےo

135. O believers! Become tenaciously firm on justice, bearing witness (merely) for the sake of Allah even if (the witness) is against your own selves or (your) parents or (your) relatives. Whether the person (against whom is the evidence) is rich or poor, Allah is a greater Well-Wisher of them both (than you are). So do not follow the desires of your (ill-commanding) selves lest you swerve from justice. But if (whilst giving evidence) you twist your statement or evade (the truth), then Allah is indeed Well Aware of (all the works) that you are doing.

(an-Nisā’, 4 : 135)

153. (اے حبیب!) آپ سے اہلِ کتاب سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے (ایک ہی دفعہ پوری لکھی ہوئی) کوئی کتاب اتار لائیں، تو وہ موسٰی (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا سوال کر چکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ (کی ذات) کھلم کھلا دکھا دو، پس ان کے (اس) ظلم (یعنی گستاخانہ سوال) کی وجہ سے انہیں آسمانی بجلی نے آپکڑا (جس کے باعث وہ مرگئے، پھر موسٰی علیہ السلام کی دعا سے زندہ ہوئے)، پھر انہوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا لیا اس کے بعد کہ ان کے پاس (حق کی نشاندہی کرنے والی) واضح نشانیاں آچکی تھیں، پھر ہم نے اس (جرم) سے بھی درگزر کیا اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (ان پر) واضح غلبہ عطا فرمایاo

153. (O Beloved!) The People of the Book ask you to bring down to them a Book from heaven (completely inscribed in one go). They asked Musa (Moses) for something even greater than that; they said: ‘Show us Allah visibly (in Person).’ So owing to (their) transgression (i.e., this denigrating demand), a thunderbolt seized them. (They died and were later raised to life by Musa’s [Moses’s] prayer.) Then they adopted the calf (as their god) after the clear signs (pointing to the truth) had reached them. Then We overlooked this (sin) as well, and bestowed upon Musa (Moses) a marked dominance over them.

(an-Nisā’, 4 : 153)

157. اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اللہ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیاo

157. And (also) because of their uttering (the boastful claim): ‘We (have) killed Allah’s Messenger, the Messiah, ‘Isa, the son of Maryam (Jesus, the son of Mary),’ whereas they neither killed nor crucified him. But (in truth) someone was made the like (of ‘Isa—Jesus) in their view. But those who disagree about him have surely fallen prey to doubt (concerning) this (murder). They know nothing (what the truth is) except (that they are) following fancy. And they certainly did not murder ‘Isa (Jesus).

(an-Nisā’, 4 : 157)