سورۃ ابراہیم میں سیدنا ابراہیم(علیہ السلام) کا ذکر مبارک ہے اس لیے اس نام کو اس سورہ مبارکہ کا عنوان مقرر کیا گیا۔ یہ سورۃ مبارکہ مکہ میں نازل ہوئی۔ اس سورہ کا آغاز اس حقیقت کے بیان سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ صحیفہ رشدو ہدایت دے کر اس لیے مبعوث کیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو گھمبیر اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لے آئیں تاکہ لوگ عزیز و حمید پروردگار کی راہ پر پورے یقین کے ساتھ گامزن ہوسکیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات کا تذکرہ ہے۔ ان کی پیاری پیاری دعائیں ہیں جو انہوں نے بڑے خلوص اور نیاز سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ عظمت میں پیش کیں۔ کعبہ کے شہر کے لیے، اس شہر کے مکینوں کے لیے اپنی اولاد کی ہدایت اور رزق حلال کے لیے التجائیں کیں۔ ساتھ ہی عرض کیا کہ الٰہی اس لق و دق صحرا اور اس بےآب و گیا ہ بیابان میں تیرے گھر کے پڑوس میں میں نے اپنی اولاد کو اس لیے بسایا ہے کہ وہ تیری عبادت کرتے رہیں۔ الٰہی! لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت اور لگن پیدا کر دے تاکہ وہ ان کے پاس کھچ کھچ کر چلے آئیں۔ یہ وادی سرسبزی و شادابی کا دور دور تک نشان نہیں۔ اس وادی میں رہنے والوں کو کھانے کے لیے تازہ پھل عطا فرما۔حضرت خلیل کی ساری دعوئیں قبول ہوئیں اور اگر سی کو اس کا عینی مشاہدہ کرنا ہو تو وہ آج بھی مکہ مکرمہ میں جاکر مشاہدہ کر سکتا ہے۔

Play Copy

مِّنۡ وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ وَ یُسۡقٰی مِنۡ مَّآءٍ صَدِیۡدٍ ﴿ۙ۱۶﴾

16. اس (بربادی) کے پیچھے (پھر) جہنم ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گاo

16. Beyond this (devastation) is Hell (again). And he will be served with fetid water of oozing pus,

(إِبْرَاهِيْم، 14 : 16)