رسول کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوئے تو یہ سورہ نازل ہوئی۔ یہاں اسلامی دعوت کے جو مخاطب تھے وہ مکہ کے باشندوں سے مذہبی، ذہنی اور عمرانی اعتبار سے مختلف تھے۔ خود دعوت اسلامی جس مرحلہ میں داخل ہورہی تھی اس کی ضروریات اور تقاضے بھی بالکل نئے تھے۔ اس لیے ہمیں اس سورہ میں مکی سورتوں کے اعتبار سے بین اور صاف فرق معلوم ہوتا ہے۔ اس سورت میں اسلام کے قانون، آئین اور سیاست کے بیشتر قواعد و ضوابط بیان فرما دیئے گئے ہیں۔ اس سورت میں ملت اسلامیہ کے لیے قبلہ کا تعین بھی فرما دیا تاکہ ان کی توجہات کا ظاہری مرکز بھی ایک ہی ہو جائے اور ان کی عبادتیں انتشار کا شکار ہو کر اپنا جماعتی حسن نہ کھو دیں۔ اگر ان امور کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آپ سورہ بقرۃ کا مطالعہ کریں گے تو زیادہ مفید ثابت ہوگا۔

Play Copy

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا لَوۡ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَ مِنۡہُمۡ کَمَا تَبَرَّءُوۡا مِنَّا ؕ کَذٰلِکَ یُرِیۡہِمُ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ حَسَرٰتٍ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنَ النَّارِ ﴿۱۶۷﴾٪

167. اور (یہ بے زاری دیکھ کر مشرک) پیروکار کہیں گے: کاش! ہمیں (دنیا میں جانے کا) ایک موقع مل جائے تو ہم (بھی) ان سے بے زاری ظاہر کردیں جیسے انہوں نے (آج) ہم سے بے زاری ظاہر کی ہے، یوں اللہ انہیں ان کے اپنے اعمال انہی پر حسرت بنا کر دکھائے گا، اور وہ (کسی صورت بھی) دوزخ سے نکلنے نہ پائیں گےo

167. And, (seeing this disgust, the polytheist) followers will say: ‘Would that we could get a chance (to return to the world), then we (too) would turn our backs on them as they have done to us (Today)!’ In this way Allah will show them their own deeds as remorse and regret. And (no way) shall they be able to escape from Hell.

(الْبَقَرَة، 2 : 167)