اس کا نام المرسلات ہے جو اس سورہ کا پہلا کلمہ ہے۔ اس میں دو رکوع ہیں۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ متعدد چیزوں کی قسمیں کھا کر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ قیامت ضرورت برپا ہوگی۔ پھر قیامت برپا ہونے کے ہولناک منظر کو بیان کیا گیا ہے۔ آیات نمبر 16، 17، 18 میں ایک سنتِ الٰہی ذکر کی گئی ہے کہ جو شخص راہ راست کو چھوڑ کر بادیۂ ضلالت میں بھٹکتا ہے۔ فسق و فجور کے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کی مخلوق پر ظلم اور تشدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ ایسے شخص کو ہلاک و برباد کردیا جائے۔ اس کے بعد انسان کی تخلیق، پھر اس کی بقاء اور نشوونما کے لیے جن اسباب ووسائل کی ضرورت ہے ان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور آیت انتیس سے لے کر آخر تک کفار کے ساتھ روز حشر جو معاملہ کیا جائے ا س کو بیان فرما دیا۔ ساتھ ہی آیت نمبر اکتالیس تا چوالیس میں متقین پر جو عنایات اور نوازشات کی جائیں گی وہ بتادیں تاکہ لوگ دونوں گروہوں میں سے جس گروہ میں شامل ہونا چاہیں سوچ سمجھ کر شامل ہوں۔

Play Copy

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۴۹﴾

49. اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہےo

49. Woe to the deniers on that Day!

(الْمُرْسَلاَت، 77 : 49)