اس سورہ پاک کے متعدد نام منقول ہیں لیکن ان میں سے دو زیادہ مشہور ہیں: التوبہ اور البرائۃ۔ اس سورہ میں چند مخلص اہلِ ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اس لیے اسے التوبہ کہا گیا ہے اور اس میں مشرکینِ عرب کے ساتھ سابقہ تمام معاہدات منسوخ ہونے کا ذکر ہونے کی وجہ سے اسے براءت کہا گیا ہے۔ اس سورہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے پہلے بسم اللہ شریف نہیں لکھی جاتی۔ اس کی صحیح وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں دیا اس لیے نہیں لکھی گئی۔ اس سورۃ میں کعبہ سے کفار کی تولیت ختم کر دی گئی ہے اور حکم فرمایا گیا ہے کہ آج کے بعد مسلمان ہی کعبہ اور مسجدِ حرام کی خدمت انجام دیا کریں گے۔

Play Copy

وَ اِنۡ نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَہۡدِہِمۡ وَ طَعَنُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ فَقَاتِلُوۡۤا اَئِمَّۃَ الۡکُفۡرِ ۙ اِنَّہُمۡ لَاۤ اَیۡمَانَ لَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ یَنۡتَہُوۡنَ ﴿۱۲﴾

12. اور اگر وہ (تم سے کیے گئے) اپنے معاہدہ کے بعد اپنے عہد توڑ دیں اور (معاہدۂ اَمن سے اِنحراف کر کے قتل عام اور پُر تشدد کارروائیوں کے ذریعے حالتِ جنگ بحال کرنے اور ریاستی اَمن کے لیے سخت خطرات پیدا کرنے کے ساتھ سرِ عام) تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو (اس صورت میں) تم (فتنہ و فساد اور دہشت گردی کا اِمکان ختم کرنے کے لیے) محاربت کے ان سرغنوں سے (پیشگی دفاعی) جنگ کرو، بے شک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے (یہ دفاعی اقدام اس لیے کرو) کہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آ جائیںo

12. And if they break their pledges after having made their treaty, and openly revile your religion (in violation of the treaty of peace, by restoring the state of war through their acts of massacre and violence, and causing potential threat to state security), then fight the leaders of militancy (to pre-empt their aggression and invasion). Indeed, they have no (commitment to their) pledges. (This pre-emptive action is needed) so that they might stop (from their offensive designs).

(التَّوْبَة، 9 : 12)