اس سورہ پاک کے متعدد نام منقول ہیں لیکن ان میں سے دو زیادہ مشہور ہیں: التوبہ اور البرائۃ۔ اس سورہ میں چند مخلص اہلِ ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اس لیے اسے التوبہ کہا گیا ہے اور اس میں مشرکینِ عرب کے ساتھ سابقہ تمام معاہدات منسوخ ہونے کا ذکر ہونے کی وجہ سے اسے براءت کہا گیا ہے۔ اس سورہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے پہلے بسم اللہ شریف نہیں لکھی جاتی۔ اس کی صحیح وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں دیا اس لیے نہیں لکھی گئی۔ اس سورۃ میں کعبہ سے کفار کی تولیت ختم کر دی گئی ہے اور حکم فرمایا گیا ہے کہ آج کے بعد مسلمان ہی کعبہ اور مسجدِ حرام کی خدمت انجام دیا کریں گے۔

Play Copy

قَاتِلُوۡہُمۡ یُعَذِّبۡہُمُ اللّٰہُ بِاَیۡدِیۡکُمۡ وَ یُخۡزِہِمۡ وَ یَنۡصُرۡکُمۡ عَلَیۡہِمۡ وَ یَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۴﴾

14. تم ان سے جنگ کرو (جنہوں نے حدیبیہ کا معاہدۂ اَمن توڑ کر پھر حالتِ جنگ کا آغاز کیا)، اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں (ان کی عہد شکنی اور اَمن دشمنی کے باعث) عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور اُن (سے مقابلہ کرنے) پر تمہاری مدد فرمائے گا اور ایمان والوں کے سینوں کو شفا بخشے گا (جن پر محاربینِ مکہ کے سرغنوں کی طرف سے ظلم و تشدد کیا جاتا رہا)o

14. Fight them (who breached the peace treaty of Hudaybiya and initiated war against you). Allah will punish them at your hands and disgrace them. And He will grant you victory over them and heal the breasts of a believing people (who were tortured by the Meccan leaders of militancy).

(التَّوْبَة، 9 : 14)