اس سورہ پاک کے متعدد نام منقول ہیں لیکن ان میں سے دو زیادہ مشہور ہیں: التوبہ اور البرائۃ۔ اس سورہ میں چند مخلص اہلِ ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اس لیے اسے التوبہ کہا گیا ہے اور اس میں مشرکینِ عرب کے ساتھ سابقہ تمام معاہدات منسوخ ہونے کا ذکر ہونے کی وجہ سے اسے براءت کہا گیا ہے۔ اس سورہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے پہلے بسم اللہ شریف نہیں لکھی جاتی۔ اس کی صحیح وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں دیا اس لیے نہیں لکھی گئی۔ اس سورۃ میں کعبہ سے کفار کی تولیت ختم کر دی گئی ہے اور حکم فرمایا گیا ہے کہ آج کے بعد مسلمان ہی کعبہ اور مسجدِ حرام کی خدمت انجام دیا کریں گے۔

Play Copy

لَیۡسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَی الۡمَرۡضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ مَا یُنۡفِقُوۡنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوۡا لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ مَا عَلَی الۡمُحۡسِنِیۡنَ مِنۡ سَبِیۡلٍ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۙ۹۱﴾

91. ضعیفوں (کمزوروں) پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ (ہی) ایسے لوگوں پر ہے جو اس قدر (وسعت بھی) نہیں پاتے جسے خرچ کریں جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے خالص و مخلص ہو چکے ہوں، نیکوکاروں (یعنی صاحبانِ احسان) پر الزام کی کوئی راہ نہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

91. There is no sin on the aged (i.e., the weak) and the sick, nor on those who are not so (affluent) that they may spend, while they are most sincerely and truly devoted to Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him). No way can the righteous (i.e., the spiritually excellent) be blamed and Allah is Most Forgiving, Ever-Merciful.

(التَّوْبَة، 9 : 91)