اس سورہ پاک کے متعدد نام منقول ہیں لیکن ان میں سے دو زیادہ مشہور ہیں: التوبہ اور البرائۃ۔ اس سورہ میں چند مخلص اہلِ ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اس لیے اسے التوبہ کہا گیا ہے اور اس میں مشرکینِ عرب کے ساتھ سابقہ تمام معاہدات منسوخ ہونے کا ذکر ہونے کی وجہ سے اسے براءت کہا گیا ہے۔ اس سورہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے پہلے بسم اللہ شریف نہیں لکھی جاتی۔ اس کی صحیح وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں دیا اس لیے نہیں لکھی گئی۔ اس سورۃ میں کعبہ سے کفار کی تولیت ختم کر دی گئی ہے اور حکم فرمایا گیا ہے کہ آج کے بعد مسلمان ہی کعبہ اور مسجدِ حرام کی خدمت انجام دیا کریں گے۔

Play Copy

وَ اٰخَرُوۡنَ اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِہِمۡ خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۰۲﴾

102. اور دوسرے وہ لو گ کہ (جنہوں نے) اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے انہوں نے کچھ نیک عمل اور دوسرے برے کاموں کو (غلطی سے) ملا جلا دیا ہے، قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرمالے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

102. And there are others (who) have confessed their sins. They have mixed up good deeds with some bad ones (by mistake). Allah will, most likely, accept their repentance. Surely, Allah is Most Forgiving, Ever-Merciful.

(التَّوْبَة، 9 : 102)