اس سورہ پاک کے متعدد نام منقول ہیں لیکن ان میں سے دو زیادہ مشہور ہیں: التوبہ اور البرائۃ۔ اس سورہ میں چند مخلص اہلِ ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اس لیے اسے التوبہ کہا گیا ہے اور اس میں مشرکینِ عرب کے ساتھ سابقہ تمام معاہدات منسوخ ہونے کا ذکر ہونے کی وجہ سے اسے براءت کہا گیا ہے۔ اس سورہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے پہلے بسم اللہ شریف نہیں لکھی جاتی۔ اس کی صحیح وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں دیا اس لیے نہیں لکھی گئی۔ اس سورۃ میں کعبہ سے کفار کی تولیت ختم کر دی گئی ہے اور حکم فرمایا گیا ہے کہ آج کے بعد مسلمان ہی کعبہ اور مسجدِ حرام کی خدمت انجام دیا کریں گے۔

Play Copy

لَوۡ یَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً اَوۡ مَغٰرٰتٍ اَوۡ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوۡا اِلَیۡہِ وَ ہُمۡ یَجۡمَحُوۡنَ ﴿۵۷﴾

57. (ان کی کیفیت یہ ہے کہ) اگر وہ کوئی پناہ گاہ یا غار یا سرنگ پا لیں تو انتہائی تیزی سے بھاگتے ہوئے اس کی طرف پلٹ جائیں (اور آپ کے ساتھ ایک لمحہ بھی نہ رہیں مگر اس وقت وہ مجبور ہیں اس لئے جھوٹی وفاداری جتلاتے ہیں)o

57. (Their state of mind is such that) if they could find a place of refuge or a cave or a crevice in the earth, they would turn towards it running very fast (and would not stay with you even for a moment, but they are under compulsion right now so they show off their false loyalty).

(التَّوْبَة، 9 : 57)