اس سورہ پاک کے متعدد نام منقول ہیں لیکن ان میں سے دو زیادہ مشہور ہیں: التوبہ اور البرائۃ۔ اس سورہ میں چند مخلص اہلِ ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اس لیے اسے التوبہ کہا گیا ہے اور اس میں مشرکینِ عرب کے ساتھ سابقہ تمام معاہدات منسوخ ہونے کا ذکر ہونے کی وجہ سے اسے براءت کہا گیا ہے۔ اس سورہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے پہلے بسم اللہ شریف نہیں لکھی جاتی۔ اس کی صحیح وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں دیا اس لیے نہیں لکھی گئی۔ اس سورۃ میں کعبہ سے کفار کی تولیت ختم کر دی گئی ہے اور حکم فرمایا گیا ہے کہ آج کے بعد مسلمان ہی کعبہ اور مسجدِ حرام کی خدمت انجام دیا کریں گے۔

Play Copy

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۙ وَ قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ سَیُؤۡتِیۡنَا اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ رَسُوۡلُہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾

59. اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتاo

59. How good it would have been if they had felt pleased with what Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) had given them and said: ‘Sufficient for us is Allah. Allah will soon confer on us His bounty and so will His Messenger ([blessings and peace be upon him] in addition). Indeed, we are inclined to Allah alone.’ (And the Messenger [blessings and peace be upon him] is His mediator; in fact, his bestowal is Allah’s. Had they developed this belief and refrained from sarcasm, it would have been better.)

(التَّوْبَة، 9 : 59)