Surah Ghafir

Irfan-ul-Quran
  • 24پارہ نمبر
  • 85آيات
  • 9رکوع
  • 60ترتيب نزولي
  • 40ترتيب تلاوت
  • مکیسورہ

اس سورہ مبارکہ کا نام المومن ہے۔اس میں نو رکوع ہیں۔ یہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورہ کا آغاز اتنا بارعب اور پرجلال ہے کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ فرمایا یہ کتاب کسی انسان کی تصنیف نہیں بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، وہ اللہ تعالیٰ جو عزیز علیم بھی ہے، غافر الذنب، قابل التوب اور صاحب جودوکرم بھی ہے۔ کیا ایسے خدا کی نازل کردہ کتاب میں کوئی نقص تلاش کیا جا سکتا ہے۔ دیگر مضامین کے علاوہ اس سورہ میں دو امور کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرائی گئی ہے: کفار مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہر بات پر جھگڑتے اور تکرار کیا کرتے۔ جس سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب نازل کو اذیت پہنچتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دے رہے ہیں کہ گزشتہ اقوام کے کفار کا رویہ بھی اپنے رسولوں کے ساتھ اسی نوعیت کا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ اے میرے حبیب! اگر یہ لوگ مجھے اپنا رب تسلیم نہیں کرتے، میری وحدانیت پر ایمان نہیں لاتے تو کیا ہوا۔ دوسری چیز جو بڑی اہمیت سے اس سورہ میں ذکر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دعوت حق دی اور اپنے قول کی صداقت کو روشن معجزات سے ثابت کر دیا تو اس نے اعیان حکومت کی مجلس مشاورت طلب کی۔ سورہ میں مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ کی توحید اور کبریائی پر تکوینی دلائل پیش کئے گئے ہیں تاکہ سننے والے کو حق الیقین نصیب ہو جائے کہ جس کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں، وہی رب السموت والارض ہے۔

or

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

In the Name of Allah, the Most Compassionate, the Ever-Merciful

اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَ مَنۡ حَوۡلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّ عِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَ قِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۷﴾

7. جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اُس کے اِرد گِرد ہیں وہ (سب) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں (یہ عرض کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! تو (اپنی) رحمت اور علم سے ہر شے کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے، پس اُن لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستہ کی پیروی کی اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لےo

7. The angels who are bearing the Throne and those who are around it, (all) glorify their Lord with His praise and believe in Him and pray for forgiveness of the believers (and submit): ‘O our Lord, You encompass everything in (Your) mercy and knowledge. So forgive those who turn to You in repentance and follow Your path and protect them from the torment of Hell.

(غَافِر - الْمُؤْمِن، 40 : 7)

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ وَ اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ ﴿۲۸﴾

28. اور ملّتِ فرعون میں سے ایک مردِ مومن نے کہا جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا: کیا تم ایک شخص کو قتل کرتے ہو (صرف) اس لئے کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے، اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا بوجھ اسی پر ہوگا اور اگر وہ سچا ہے تو جس قدر عذاب کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے تمہیں پہنچ کر رہے گا، بے شک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا سراسر جھوٹا ہوo

28. And a believing man amongst the people of Pharaoh who had kept his faith secret said, ‘Do you kill a man (just) because he says: Allah is my Lord? And he has brought you clear signs from your Lord. And (suppose) if he is a liar, then the burden of his lie will fall back on him alone, but if he is truthful, then as much torment is bound to seize you as he has promised you. Surely, Allah does not give guidance to someone who exceeds limits and is a downright liar.

(غَافِر - الْمُؤْمِن، 40 : 28)

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿۵۵﴾

55. پس آپ صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے اور اپنی اُمت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے٭ اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کیجئےo

٭ لِذَنبِكَ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے، لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں: 1۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) أی لِذَنبِ أُمتِکَ یعنی اپنی امت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، 4: 359)۔ 2۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: لِذَنبِ أُمتِکَ حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 15: 324)۔ 3۔ وَ قیل: لِذَنبِکَ لِذَنبِ أُمتِکَ فِی حَقِّکَ ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لِذَنبِکَ یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزَد ہونے والی خطاؤں کی بخشش طلب کیجئے۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، 7: 471)۔ 4۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ” کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ ( علامہ شوکانی، فتح القدیر، 4: 497)

55. So keep patience. Assuredly, the promise of Allah is true. And ask forgiveness for the sins of your Umma (Community),* and glorify your Lord with His praise in the evening and in the morning.

* In ‘li-dhanbi-ka’ the co-related noun is Umma which is omitted. On this basis, therefore, the verse ‘wa-staghfir li-dhanbi-ka’ denotes the sins committed by Umma. The leading scholars, Imam al-Nasafi, Imam al-Qurtubi and ‘Allama al-Shawkani, have drawn the same meaning. For references, see the following: 1. ‘Wa-staghfir li-dhanbi-ka’ means ‘li-dhanbi Ummati-ka’, that is, the sins of your Umma. (al-Nasafi in Madarik al-Tanzil wa Haqa’iq al-Ta’wil, 4:359.) 2. ‘Wa-staghfir li-dhanbi-ka’ means ‘li-dhanbi Ummati-ka’. Hudhifa al-mudaf wa uqima al-mudaf il-ayh maqama-hu’. It is stated that ‘wa-staghfir li-dhanbi-ka’ implies the sins of Umma. The co-related noun has been omitted in the given phrase and is represented by the noun it is co-related to. (al-Qurtubi in al-Jami‘ li-Ahkam al-Qur’an, 15:324.) 3. Wa qila li-dhanbi Ummati-ka fi haqqi-ka. This is also expositioned that li-dhanbi-ka means for the misdeeds committed by Umma pertaining to what is your due. (Ibn Hayyan al-Andalusi in Bahr al-Muhit, 7:471.) 4. ‘Wa-staghfir li-dhanbi-ka’ means ‘dhanbi Ummati-ka, fa-huwa ‘ala hadhfi al-mudaf’. It implies the sins of Umma and this interpretation is based on omission of the co-related noun. (al-Shawkani in Fath al-Qadir, 4:497.)

(غَافِر - الْمُؤْمِن، 40 : 55)

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾

67. وہی ہے جس نے تمہاری (کیمیائی حیات کی ابتدائی) پیدائش مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک نطفہ (یعنی ایک خلیہ) سے، پھر رحم مادر میں معلّق وجود سے، پھر (بالآخر) وہی تمہیں بچہ بنا کر نکالتا ہے پھر (تمہیں نشو و نما دیتا ہے) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ۔ پھر (تمہیں عمر کی مہلت دیتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور تم میں سے کوئی (بڑھاپے سے) پہلے ہی وفات پا جاتا ہے اور (یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے) تاکہ تم (اپنی اپنی) مقررّہ میعاد تک پہنچ جاؤ اور اِس لئے (بھی) کہ تم سمجھ سکوo

67. He is the One Who initiated (the genesis of) your (chemical life) from clay, then (your biological genesis) from a sperm drop (zygote), then from a hanging mass (in the mother’s womb). Then (eventually) He is the One Who brings you forth as an infant, then (nourishes you), so that you may reach your maturity. (Then He grants you a period of life) so that you may grow old. And some of you die early (before senility). And (the purpose of all this is) that you may complete your respective appointed terms and (also) that you may comprehend.

(غَافِر - الْمُؤْمِن، 40 : 67)

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَیۡکَ ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالۡحَقِّ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿٪۷۸﴾

78. اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کو بھیجا، ان میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرما دیا اور ان میں سے بعض کا حال ہم نے (ابھی تک) آپ پر بیان نہیں فرمایا، اور کسی بھی رسول کے لئے یہ (ممکن) نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی بھی اللہ کے اِذن کے بغیر لے آئے، پھر جب اللہ کا حکم آپہنچا (اور) حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا تو اس وقت اہلِ باطل خسارے میں رہےo

78. And no doubt We sent many Messengers before you. We have given you an account of some of them whilst We have not (yet) narrated to you the annals of some others. And it was not possible for any Messenger to bring any sign without Allah’s leave. Then when the command of Allah came (and) the judgment was given with truth and justice, the exponents of evil went into loss.

(غَافِر - الْمُؤْمِن، 40 : 78)